test story

🎧 Audio Narration
Ready to play

دوستو میرا نام سنہ ہے اور میری عمر 32 سال ہے تین افتے پہلے میرے والد کی روڈائرمنٹ پارٹی میں انہوں نے سب کے سامنے میرے ساتھ ایسا سلوک کیا کہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں ہمیشہ کیلئے اس خاندان سے دور ہو جاؤں گی ذرا تصور کریں لاہور کے ایک بڑے ہاؤٹل کا خوبصورت حال مہنگے کپڑے پہنے ہوئے تقریباً دو سو مہمان میزوں پر قیمتی مشروبات اور ہر طرف ہنسی مذاک کا ماحول میرے والد رشید صاحب اسٹیج پر کھڑے تھے اور اپنے خاندان کے ہر فرد کا تعرف کروا رہے تھے جب وہ میرے پاس آئے تھے انہوں نے وہی مسکراہت دی جو میں نے بچپن سے دیکھی تھی ایسی مسکراہت جو دوسروں کو بہت اچھی لگتی تھی لیکن مجھے ہمیشہ اندر سے تکلیف دیتی تھی انہوں نے مائیک میں کہا اور یہ میری بیٹی سنہ ہے نہ کوئی ڈگری نہ کوئی خاص مستقبل بس خاندان پر بوجھ تکریب میں موجود دو سو لوگ ہنس پڑے میں اپنی جگہ بیٹھی رہی نہ روئی نہ کوئی جواب دیا میں نے بس اپنا مشروب اٹھایا اور کہا آپ کی خوشی کے نام یہ آخری بار ہے جب آپ میں سے کوئی مجھے دیکھے گا پھر میں وہاں سے باہر نکل گئی پورے حال میں خاموشی چھا گئی لیکن یہ سب یہاں سے شروع نہیں ہوا تھا اس کے پیچھے پوری بارہ سال کی کہانی تھی آئیے میں آپ کو اس دن سے پیچھے لے چلتی ہوں جب مجھے کالج چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا لاہور کا رشید خاندان اپنے علاقے میں اچھی خاصی پہچان لکھتا تھا ہم متوسط سے پہتر گرانے سے تھے اور لوگ ہمیں عزت کی نظر سے دیکھتے تھے میرے والد رشید صاحب ایک لاجستک کمپنی کے مالک تھے ہمارے پاس تو ایکڑ کا بڑا گھر تھا جس میں چھے بیٹروم تھے باہر ایک مہنگی گاڑی کھڑی رہتی تھی اور شہر کے ایک مشہور کنٹری کلیپ کی رکنیت بھی تھی باہر سے ہمارا خاندان بلکل خوش اور کامیاب دکھائی دیتا تھا لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف تھی میری والدہ کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب میں صرف آٹھ سال کی تھی انہیں کینسر تھا اور بیماری نے انہیں بہت جلد ہم سے چھین لیا مجھے ان کا چہرہ اب ٹھیک سے یاد بھی نہیں لیکن ان کے ہاتھ آج بھی یاد ہیں نرم ہاتھ جو ہمیشہ مجھ سے اپنی قریب کرتے تھے میری والدہ کے انتقال کے دو سال بعد میرے والد نے ندا سے شادی کر لی ندا اپنے پہلے شوہر سے ایک بیٹا لے کر آئی تھی جس کا نام مرتضہ تھا اور وہ مجھ سے تین سال بڑا تھا کچھ ہی عرصے میں وہ دونوں ہمارے گھر کا حصہ نہیں بلکہ گھر کے اصل افراد بن گئے اور میں آہستہ آہستہ اس گھر میں ایک ایسی چیز بن گئی جس کی طرف کسی کی توجہ نہیں جاتی تھی کوئی میرے ساتھ کھلم کھلا برا صلوپ نہیں کرتا تھا کوئی مجھے مارتا نہیں تھا کوئی ہر وقت مجھ پر نہیں چلاتا تھا لیکن مجھے مزلزل نظر انداز کیا جاتا تھا مرتضہ کے اچھے نمبروں پر سب خوش ہوتے میرے اچھے نمبروں کی کسی کو فکر نہیں ہوتی اس سے سولہ سال کی عمر میں نئی گاڑی ملی مجھے اس کی پرانی گاڑی دے دی کی میرے والد اسے کمپنی کا مستقبل کہتے تھے اور میرے بارے میں ایسے بات کرتے تھے جیسے میرا کوئی خاص مستقبل ہے ہی نہیں میرے والد نے کبھی مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا کبھی زور سے نہیں مارا لیکن وہ مجھ سے اس طرح گزر جاتے جیسے میں وہاں موجود ہی نہ ہوں البتہ ایک شخص تھا جو مجھے واقعی دیکھتا تھا میری داتی یعنی میرے والد کی والدا بہار اتوار مجھے فون کرتی میرے پڑھائی کے بارے میں پوچھتی میرے دوستوں اور میرے خوابوں کے بارے میں باتیں کرتی وہ ہمیشہ کہتی سنہ تو مجھے اپنی جوانی یاد دلاتی ہو لوگ تمہیں کم سمجھتے ہیں لیکن میں تمہیں دیکھ رہی ہوں اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک دن انہی کی وجہ سے میری زندگی بدلنے والی ہے دادی کے دنیا سے جانے پر انہوں نے میرے لئے کچھ چھوڑا تھا لیکن اس وقت میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی میں نے اپنے خاندان میں رہتے ہوئے خاموش رہنا سیکھ لیا تھا لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ ایک دن یہی خاموشی میری سب سے بڑی طاقت بن جائے گی جب میری زندگی کا فیصلہ کیا گیا تو میری عمر بیس سال تھی میں پنجاب یونیورسٹی میں بیسنس کی پڑھائی کر رہی تھی اور میرے نمبر بہت اچھے تھے میرے پاس اپنے مستقبل کے کئی خواب تھے میرے سامنے اسلام آباد کے ایک سمر پروگرام کے لیے اسکالرشپ کی درخواست بھی رکھی تھی ایک دن میرے والد نے مجھے گھر بلایا اور کہا خاندانی میٹنگ ہے ان دو لفظوں کا میرے لیے کبھی اچھا مطلب نہیں رہا تھا میں ان کے دفتر میں گئی تو وہ اپنی میز کے پیشے بیٹھے تھے دیواروں پر ان کے ایوارڈ اور سرٹیفکیٹ لگے ہوئے تھے میدہ ابھی ان کے پاس گھڑی تھی اور اس کا ہاتھ میرے والد کے کندے پر تھا میرے والد نے میری طرف دیکھے بغیر کہا سنہ ان خاندان کے لیے کچھ قربانیاں دینی ہوں گی مرتضہ کو وارٹن سے ایم بی اے کرنے کا موقع ملا ہے اور یہ اس کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے میرا دل جیسے پہلے ہی جانتا تھا کہ آگے کیا آنے والا ہے انہوں نے کہا ہم تمہاری اور مرتضہ دونوں کی پڑھائی کا خرچ نہیں اٹھا سکتے اس لیے تم ابھی کچھ عرصے کے لیے اپنی پڑھائی رکھ دو مرتضہ کا مستقبل پورے خاندان کے لیے فائدہ مند ہوگا ندہ نے فورا کہا لڑکی کو اچھی زندگی گزارنے کے لیے ایم بی اے کی ضرورت نہیں ہوتی سنہ تمہیں اچھا شہر مل جائے گا بس یہ ہی کافی ہے میں خاموش بیٹھی رہی میں حیران نہیں تھی کیونکہ میں نے بارہ سال میں یہ سیکھ لیا تھا کہ اس گھر میں مجھ سے زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے لیکن میرے دل میں ایک چھوٹی سی امید اب بھی باقی تھی میں نے اپنے والد سے کہا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ میری پڑھائی میں میرا ساتھ دیں گے آپ نے امی سے بھی وعدہ کیا تھا میرے والد کا چہرہ سخت ہو گیا انہوں نے کہا حالات بدل گئے ہیں جب کمپنی بہتر حالت میں آ جائے گی تو میں تمہاری پڑھائی دوبارہ شروع کروا دوں گا انہوں نے اپنا وعدہ کبھی پورا نہیں کیا کچھ عرصے بعد مجھے ایک گزن کے ذریعے معلوم ہوا کہ پیسے کی کمی تھی ہی نہیں میرے والد کے پاس کافی رقم تھی انہوں نے صرف یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ میرے اوپر خرچ نہیں کریں گے میں نے اس دن کوئی بیعث نہیں کی میں نے صرف سرحلایا اور دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب کبھی کسی کو اپنی قیمت دہ کرنے نہیں دوں گی میرے پاس صرف پچاس ہزار روپیک کی بجک تھی اور ایک سوٹکیس تھا میں لاہور چھوڑ کر کراچی چلی گئی میرا پہلا گھر ایک لانڈری کے اوپر بنا ہوا صرف چار سو مربع فٹ کا ایک چھوٹا سا کمرا تھا رات کو دیواروں کے پار پڑوسیوں کے ٹی وی کی آواز آتی تھی اور میں اکثر سادہ نوڈلز کھا کر سو جاتی تھی صبح میں ایک کیفے میں کام کرتی اور کبھی کبھی وہاں بچ جانے والی روٹیاں گھر لے آتی لیکن ایک بات میں نے وہاں سیکھی جب آپ بہت نیچے آ جائیں تو پھر آپ کے پاس اوپر جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہتا مجھے ایک چھوٹی لاجستک کمپنی میں دفتری کام کی نوکری مل گئی تنخواہ کم تھی لیکن میں نے اسے موقع سمجھا کمپنی کے مالک وقار صاحب سخت مزاج آتمی تھے لیکن انہوں نے میرے اندر وہ صلاحیت دیکھ لی جو میرے اپنے گھر والوں نے کبھی نہیں دیکھی تھی ایک دن انہوں نے مجھ سے کہا سنہ تمہارے اندر دماغ ہے اسے استعمال کرو میں نے ان کی بات دل سے لے لی میں دیر تک دفتر میں رکھتی کمپنی کے کام کا ہر طریقہ سیکھتی رات وہ آن لائن کورسس کرتی اور سپلائی چین کمپنی چلانے اور کاروبار کے دوسری کاموں کے باروں میں پڑھتی رہتی میرے لئے یہی سب میری نئی تعلیم تھی میں نے گھر فون نہیں کیا اور نہ ہی اپنے والد سے ایک روپیہ مانگا ایک پار میرے والد کی سیکٹری نے میری سالگیرہ پر خاندان کی طرف سے پانچ ہزار روپیہ کا چک پیجا میں نے وہ چک پھاڑ کر پھینک دیا لاہوت چھوڑنے کے چار سال بعد میں نے اتنی رقم جمع کر لی کہ اپنی کنسلٹنگ کمپنی شروع کر سکوں کمپنی کا نام میرین کنسلٹنگ پرائیویٹ لیمیٹڈ رکھا شروع میں کمپنی میں صرف میں تھی ایک لیپٹاپ تھا اور ایک مشترکہ دفتر میں کرائی کی میز تھی میں نے جان بوش کر اپنا نام سامنے نہیں آنے دیا میری کمپنی کا کوئی لنگڈین پروفائل نہیں تھا کوئی اخبار میں قبر نہیں چھپوائی گئی تمام کاروباری معاملات کمپنی کے نام اور میرے وقیل کے ذریعے ہوتے تھے میں اپنے خاندان کو جانتی تھی مجھے ڈر تھا کہ اگر انہیں میرے کامیاب ہونے کا خطہ چل گیا تو یا تو وہ میری کامیابی کا کریئرٹر لے لیں گے یا اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے کچھ لوگ اپنی قدر ثابت کرنے کے لیے بڑی بڑی سلطنتیں بناتے ہیں میں نے خاموشی سے اپنی کمپنی بنائی کیونکہ خاموشی ہی وہ زبان تھی جو میرے خاندان نے مجھے سکھائی تھی میری دادی کا انتقال دو سال پہلے ہوا جب میں تیس سال کی تھی میں لاہور گئی ان کی آخری رسومات میں سب سے پیشے بیٹھ گئی اور اپنے والد کو دادی کے بارے میں اچھی اچھی باتیں کرتے ہوئے دیکھا وہ ایسی خاتون کے بارے میں تعریف کر رہے تھے جس نے اپنی پوری زندگی خاندان کے لیے وقف کر دی تھی مجھے اس میں عجیب سا احساس ہوا کیونکہ میں جانتی تھی کہ دادی نے میرے لیے کیا کچھ کیا تھا میں تقریب کے بعد خاموشی سے واپس آ گئی لیکن تین دن بعد کراچی کی ایک وکیل آلیہ بیگم نے مجھے پھونٹ کیا انہوں نے کہا محترمہ سنہ میں آپ کی دادی کی جائیداد کے معاملات دیکھ رہی ہوں انہوں نے آٹھ سال پہلے آپ کے نام پر ایک ٹرسٹ بنایا تھا اور خاص طور پر کہا تھا کہ خاندان کے کسی دوسرے فرد کو اس کے بارے میں نہ بتا جائے میں حیران بہکئی انہوں نے بتایا کہ اس ٹرسٹ میں آٹھ کروڑ روپے تھے پھر انہوں نے کہا آپ کی دادی نے آپ کے لیے ایک خط بھی چھوڑا ہے اگر آپ چاہیں تو میں پڑھ کر سنا سکتی ہوں میں نے ہاں کر دی آلیہ بیگم نے خط پڑھنا شروع کیا میری پیاری سنہ میں جانتی ہوں کہ تمہارے ساتھ کیا ہوا میں تمہاری پڑھائی کے بارے میں جانتی ہوں تمہارے والد کے وعدوں کے بارے میں بھی جانتی ہوں اور یہ بھی جانتی ہوں کہ انہوں نے تمہیں کس طرح نظر انداز کیا میں نے تمہارے والد سے بہت بحث کی لیکن وہ سننے کے لئے تیار نہیں تھے یہ رقم تمہاری ہے اس پر کسی کا حق نہیں اسے اپنی مرضی کی زندگی بنانے کے لئے استعمال کرنا کسی کو یہ مت کہنے دینا کہ تم کسی قابل نہیں ہو ایک دن وہ تمہاری قدر سمجھیں گے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی مجھے تم پر ہمیشہ یقین تھا تمہاری تاتی میری آنکھوں میں آنسو آگے میں نے رقم کا کچھ حصہ اپنی کمپنی کو بڑا کرنے کے لئے استعمال کیا اور باقی محفوظ رکھ دیا دو سال بعد میری کمپنی بہت آگے بڑھ چکی تھی اب میرین کمسلٹنگ میں پندرہ ملازمین تھے اور کراچی کے بیک بے میں میرا اپنا دفتر تھا میں اب مہنگی گھڑی اور اچھے کپڑے پہنتی تھی لیکن اس لیے نہیں کہ کسی کو دکھانا تھا بلکہ اس لیے کہ میں نے یہ سب اپنے بلبوتے پر حاصل کیا تھا ہماری کمپنی دوسری کمپنیوں کو ان کی سپلائی مال پہنچانے اور گودام کا کام بہتر طریقے سے چلانے میں مدد دیتی تھی یہ کوئی چمک دمک والا کام نہیں تھا لیکن بہت فائدہ مند کاروبار تھا اور میں اپنے کام میں اچھی تھی اور اب کہانی کا سب سے دلچسپ حصہ سنیں ہماری سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک میرے والد کی کمپنی رشید راجستکس تھی تین سال پہلے انہوں نے ہماری کمپنی کے ساتھ پانچ سال کا معاہدہ کیا تھا ہم ان کے راستوں گودام مال کی ترسیل اور دوسری ضروری کیزوں کا انتظام بہتر بنانے میں ان کی مدد کرتے تھے ہماری وجہ سے ان کے کاروبار کے اخراجات کام ہوئے تھے اور ان کا کام بہتر ہو گیا تھا میرے والد کو بالکل معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنی ہی بیٹی کی کمپنی سے کام کروا رہے ہیں ہماری طرف سے تمام رابطہ میری ٹیم کرتی تھی اور معاہدوں پر میرے سیف اور دانش علی کے دستخط ہوتے تھے کئی بار کاروباری تقریبات میں میرے والد نے میرین کنسلٹنگ کی تعریف بھی کی لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنی ہی بیٹی کے کام کی تعریف کر رہے ہیں اسی بیٹی کی جسے وہ سب کے سامنے بیکار کہتے تھے تین ہفتے پہلے مجھے اپنے والد کی رکائرمنٹ پارٹی کی دعوت نامہ ملا میں نے پہلے اسے پھینکنے کا سوچا لیکن پھر مجھے اپنی دادی یاد آگی پچھلے بارہ سال کی خاموشی یاد آئی اور وہ تمام وعدے یاد آئے جو میرے والد نے کبھی پورے نہیں کیے میں نے پارٹی میں جانے کا فیصلہ کر لیا میں کسی صلاح کی امید لے کر نہیں گئی تھی میں صرف یہ چاہتی تھی اگر میرے والد نے دوبارہ میرے ساتھ کچھ غلط کیا تو میں اس بار اپنی مرضی سے وہاں سے نکل سکوں لاہور کا وہ کنٹری کلپ کئی سال بعد بھی ویسا ہی تھا بڑے فانوس مہنگی گاڑیاں اور شہر کے بڑے لوگ میں نے ایک سادہ مگر مہنگا سیاہ لباس پہنا دادی کی موتھیوں والی بالیاں اچھی گڑی اور اپنا مہنگا بیک لیا میری ہر چیز میں ایک بات مشترک تھی وہ سب میں نے خود خریدی تھی نیدہ نے دروازے پر مجھے دیکھا تو پوراں میرے لباس کو اوپر سے نیچے تک دیکھا اور کہا سانہ تم آگئی تمہارے والد کو تو یقین نہیں تھا کہ تمہارے پاس پہننے کے لئے کوئی اچھی چیز بھی ہوگی میں مسکرائی اور کہا ان کی فکر کرنے کا شکریہ ہال میں تقریباً دو سو مہمان تھے بہت سے بڑے کاروباری لوگ واکیل اور دوسرے اہم لوگ وہاں موجود تھے میں نے کچھ پرانے چہروں کو پہچانا لیکن کسی نے مجھے نہیں پہچانا مرتضی ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ گھوم رہا تھا اور کسی کو اپنی کمپنی کے مستقبل کے بارے میں بڑے اعتماد سے بتا رہا تھا میں اپنی میز تلاش کر کے وہاں میٹھ گئے مجھے خاندان کی میز پر نہیں بلکہ ایک دور کونے میں جگہ دی گئی تھی مجھے حیرت نہیں ہوئی لیکن میں نے یہ بات ذہن میں رکھ لی کچھ دیر بعد میرے والد کاروباری لوگوں کے ساتھ بات کر رہے تھے میں نے انہیں کہتے سنا میرین کنسلڈنگ نے ہمارے کاروبار کو بہت بدل دیا ہے ہمارے کام میں بہتری آئی ہے جو شخص اس کمپنی کو چلا رہا ہے وہ واقعی بہت قابل ہے سامنے بیٹھے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ جانتے ہیں کہ اس کمپنی کا اصل مالک کون ہے میرے والد نے کہا نہیں میں نے اسے کبھی ذاتی طور پر نہیں دیکھا لیکن جب تک وہ اچھا کام کر رہے ہیں مجھے فرق نہیں پڑتا کہ وہ کون ہیں میں نے اپنا مشروب پیا اور دل ہی دل میں مسکراتی اسی وقت میرے پھون پر دانش کا پیغام آیا فرشید لاجسٹکس نے معاہدہ مزید پانچ سال کے لیے بڑھانے کی درخواست کی ہے آپ کے فیصلے کا انتظار ہے میں نے جواب دیا میں ہفتے کی آخر تک فیصلہ بتاؤں گی میرے والد کو معلوم نہیں تھا کہ اگر میرین کنسلڈنگ نے ان کی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا تو ان کی کمپنی کو بہت بڑا نقصان ہو گا میں ابھی فیصلہ نہیں کر پائی تھی کہ کاروبار کو خاندان کے معاملے سے الگ رکھوں یا نہیں لیکن اس رات جو کچھ ہوا اس نے سب کچھ پتل دیا میں بار کے پاس گئی تو ندا کی چھوٹی بہن خالا سمینہ نے مجھے دیکھ لیا اس نے کہا سنہ اوہ میں نے تو تمہیں مشکل سے پہچانا تم اچھی لگ رہی ہو ابھی بھی کراچی میں وہی چھوٹا موٹا کام کر رہی ہو میں نے کہا کنسلٹنگ کرتی ہوں سپلائی چین کے کام میں اس نے کہا اچھا ہے ویسے کسی کو پسند کرتی ہو تمہارے والد کہہ رہے تھے کہ تم اب بھی اکیلی ہو بتی سال کی ہو گئی ہو وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے اس سے پہلے کہ میں جواب دیتی جچا دانش بھی آگئے اور کہنے لگے رشید صاحب بتا رہے تھے کہ تم ابھی تک اپنی زندگی کا راستہ تلاش کر رہی ہو کوئی بات نہیں ہر شخص بڑی کامیابی کیلئے نہیں بنا ہوتا مجھے فوراں سمجھ آگئی کہ میرے والد نے سب کو پہلے ہی میرے بارے میں کیا کہانی بتا رکھی تھی خالص مینہ نے کہا رشید صاحب نے بتایا کہ کالج چھوڑنے کے بعد تم کافی پریشان رہنے لگی تھی ذہنی دباؤ بھی تھا شاید تمہاری حمد ہے کہ آج یہاں آئی ہو میں نے اپنا گلاس مضبوطی سے پکڑا اور کہا آپ سب کی فکر کا شکریہ لیکن میں اپنی زندگی میں پہلے سے کہیں زیادہ اچھی جگہ پر ہوں وہ ایک دوسری کو دیکھنے لگے جیسے انہیں میری بات پر یقین ہی نہ آیا ہو میں وہاں سے چلی آئی لیکن میرے ذہن میں ایک بات صاف ہو چکی تھی تھوڑی دیر بعد مرتضی نے مجھے چھت پر جا کر پکڑ لیا وہ میرے پیچھے کھڑا ہو کر بولا واہ! گمشدہ بہن واپس آگئی میں نے کہا مرتضی وہ میرے قریب آیا اور بولا اب وہ اپنی تقریر کرنے والے ہیں میں بس یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم کوئی تماشا تو نہیں کروگی میں نے پوچھا میں ایسا کیوں کروں گی وہ بولا کیونکہ تم ہمیشہ سے مجھ سے جلتی رہی ہو جس طرح تم پڑھائی چھوڑنے کے بعد گھر سے بھاگ گئی تھی تم نے کبھی اس بات کو قبول نہیں کیا کیونکہ تمہارے بجائے مجھے موقع کیوں ملا میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا کیا تم واقعی خود کو یہی باتیں بتاتے ہو وہ بولا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے کراچی میں کوئی کاروبار شروع کیا ہے بزنس وومن بننے کا ڈراما کر رہی ہو دیکھتے ہیں کتنے دن چلتا ہے چھے ماہ ایک ساتھ پھر واپس آگی اور اببو سے مدد مانگو گی میں نے کہا میں واپس نہیں آگی وہ حنصار بولا تم آگی ہمیشہ سے کمزور رہی ہو میں چاہتی تو اسی وقت اسے بتا سکتی تھی کہ جس کمپنی کو وہ حقیر سمجھ رہا ہے وہی اس کے والد کی کمپنی کو سبحالنے میں سب سے اہم کردار ادا کر رہی ہے لیکن میں نے کچھ نہیں کہا میں نے صرف اتنا کہا مرتضی آج کے بعد تمہیں شاید افسوس ہوا کہ تم نے میرے ساتھ مختلف سلوک کیوں نہیں کیا وہ ہنزا اور واپس چلا کیا اسے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں کچھ دیر بعد حال کی روشنی مرتم ہو گئی اور سٹیج پر روشنی پڑی میرے والد سٹیج پر گئے اور سب نے تعلیم بچائیں انہوں نے اپنی تقریر شروع کی اپنے کاروبار کے چالیس سال اپنے ساتھیوں ملازمین اور خاندان کا ذکر کیا پھر انہوں نے ندہ کی تعلیم کی اور کہا میں اپنی بیوی ندہ کی بغیر یہ سب نہیں کر سکتا تھا اس کے بعد انہوں نے مرتضی کی طرف اشارہ کیا اور میرا بیٹا مرتضی جو جنوری م

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top